ابنا: بني وليد شہر ميں انقلابيوں کے رہنما ضوالصالحين نے کہا ہے کہ ليبيا کے انقلابي اس مہلت کے ختم ہونے کا انتظار کررہے ہيں جو انہوں نے قذافي کے حامي قبائل اور ان کے سرداروں کو دے رکھي ہے انہوں نے کہا کہ بني وليد کے باہر ہونےوالي ان لڑائيوں کا مطلب يہ ہرگزنہيں ہے کہ شہر کے اکابرين اور قبائل کےساتھ انقلابيوں کے مذاکرات ٹوٹ گئے ہيں بلکہ يہ لڑائياں اس وقت شروع ہوئيں جب قذافي کے ايجنٹوں نے انقلابيوں کو اشتعال دلايا -
سرت اور بني وليد شہروں کے قريب قذافي کے ايجنٹوں نے انقلابيوں پر فائرنگ کردي جس کے باعث انقلابيوں نے بھي وقت سے پہلےاپنے ردعمل کا اظہار کرديا-
يہ ايسي حالت ميں ہے کہ ابھي تک سرت اور بني وليد شہروں کے قبائلي سرداروں کے ساتھ انقلابيوں کے مذاکرات کسي نتيجے پر نہيں پہنچ سکے ہيں -
ليبيا کے انقلابي چاہتے ہيں کہ وہ کسي خون خرابے کے بغير ان دونوں شہروں ميں داخل ہوجائيں اور اسي لئےوہ ان شہروں کے اکابرين سے مذاکرات بھي کررہے ہيں -............
/169